ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / آئندہ ودھان سبھا انتخابات کے دوران بھٹکل کے مسلمانوں کوانصاف کے حق میں کام کرنے سید تنویر احمدکا مشورہ

آئندہ ودھان سبھا انتخابات کے دوران بھٹکل کے مسلمانوں کوانصاف کے حق میں کام کرنے سید تنویر احمدکا مشورہ

Mon, 17 Apr 2017 20:46:11    S.O. News Service

بھٹکل:17/اپریل(ایس اؤنیوز) موجودہ سیاسی حالات سنگین راہ پر ہیں، ریاست میں ہونے والے آئندہ ودھان سبھا کے انتخابات فیصلہ کن ہونگے،اگر ان انتخابات میں مسلم ووٹ تقسیم ہوتاہے تو یقینا ً فسطائی طاقتیں کامیاب ہونگی اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔انتخابات کے دوران اترپردیش کی طرح یہاں بھی سیاسی پارٹیاں اورلیڈران مسلم ووٹ کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے جس کا نتیجہ جووہاں دیکھ رہے ہیں وہی ہم یہاں بھی دیکھیں گے اس لئے ہمیں چوکنا رہتے ہوئے سیاسی سوجھ بوجھ اور شعورسے کام لینےکی ضرورت ہے۔ ان خیالات کااظہار بنگلورو سے تشریف فرما برینی اسٹار ایجوکیشن ٹرسٹ کے سی ای اؤ اور جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے سکریٹری برائے تعلیمات سید تنویر احمد نے کیا۔

وہ یہاں اتوار کی شام 5بجے سلطان اسٹریٹ میں واقع دعوت سنٹر میں ’’موجودہ سیاسی صورت حال اور مسلمان ‘‘کے موضوع پر خصوصی خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ادارے اور تنظیمیں اس بات کی بھی کوشش کریں کہ آنے والے الیکشن کو ’’مسلم سنٹرڈ ‘‘ ہونے نہ دیں، اگرمسلمانوں کو مرکز بنا کر انتخابات ہوئے تو فسطائی قوتیں اسی کو لے اڑیں گے اور عوامی سطح پر اپنے حق میں ہوا بنانےمیں کامیاب ہونگے۔اس کے برخلاف جو ترقی کی بات کرتے ہیں ، انصاف کی بات کرتے ہیں ان کے حق میں ہم جدوجہد کریں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چلتا پھرتا ایک قرآنی مومن کا نمونہ ہونا چاہئے تاکہ عوام ہم پر اعتماد کریں انہوں نے اس بات کا بھی مشورہ دیا کہ یہاں کے مسلمانوں کوایسا  ماحول پیدا کرنےکی کوشش کرنی چاہئے کہ لوگ کہیں کہ یہ معاشرہ پاک صاف اور انصاف پر قائم ہے، تم ہوتو غریبوں، لاچاروں ، یتیموں کی خبرگیری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر ایسی جماعتوں ، اداروں اور لیڈران کو ساتھ لے کر ریاست بھر میں کام کرنےکی کوششیں جاری ہیں۔

موصوف نے دوران ِ خطاب مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ جس بڑے خطرے کا ہمیں سامنا ہے اس سے بچنا ہے تو مسلمان ایم ایل ایز کی تعدا د بڑھانےکی فکر نہ کریں کیونکہ آزادی کے بعد سے ہم نے ابھی تک اچھی طرح دیکھا ہے کہ کون کتنا کام کرتاہے، بلکہ خطرے سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کو اپنے امیدوار کو بھی قربان کرنا پڑے تو کر دینا چاہئے تاکہ خطرے کو ٹالا جاسکے، مسلمانوں کو بولڈ فیصلے لینے ہونگے ،قوم پرستانہ خیالات سے باز رہنا ہوگا، قوم پرستی کو قربان کریں اس سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے، مسلمان قوم پرستانہ جذبات سے باہر نہیں نکلے تو اترپردیش جیسے حالات ہونگے۔ ملک میں سکیولر قوتوں کو مضبوط کرنا وقت کا تقاضا ہے، مسلمان اداروں، تنظیموں اور لیڈران کو شعور کے ساتھ کام کرنا ہوگا، چھوٹے موٹے معاملات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں نظرانداز کرنا بہتر ہوگا، چھوٹے فائدے سے زیادہ بڑے خطرے کو ٹالنا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ موصوف نے نوائط کالونی تنظیم گرائونڈ میں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے زیراہتمام عوامی اجلاس بھی عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے خطرے کو ٹالنے کے لئے آئندہ ہونے والے انتخابات میں اُس سیکولر اُمیدوار کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی تھی جو فرقہ پرست پارٹی کے لیڈر کو شکست دینے کی طاقت رکھتا ہو۔


Share: